In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful

٭…ایک روز اِرشاد ہوا۔بیعت لینا کچھ آسان بات نہیں بروزِمحشرجب مریداپنی امانت طلب کریں گے پیرِ ناقص جوکہ خود اپنی امانت کے بارے میں پریشان ہوگامریدوں کی امانت کیا واپس کر سکے گا۔

٭…ایک روز اِرشادہوا۔اگر بیعت کرنا کوئی آسان بات ہوتی تونواسہ رسولﷺ ، جگرگوشہ بتولؑ ، مظلومِ کربلا، سیدالشہدا سید ناامام حسین علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنا گھر لٹانے کی بجائے یزید کی بیعت کر لیتے۔آپ کیونکہ بیعت کے راز سے آشنا تھے اسی لئے میدانِ کارزارگرم ہونے سے پہلے آپ نے جو شرطیں بیان فرما ئیں اُن میں ایک یہ بھی تھی کہ میرے ساتھ جھگڑانہ کرو مجھے یہاں سے جانے دو۔میں کسی اور ملک میں چلا جائوں گا۔اور گوشۂ خلوت میں دن گزار لوں گا۔لیکن یزیدی فوج کے سپہ سالاروں کی طرف سے یہی جواب ملاکہ بیعت کے بغیر ہم آپ کو نہ جانے دینگے۔ آپ نے ہر قسم کی قربانی پیش کی لیکن یزید کی بیعت قبول نہ کی۔

٭…ایک روز ارشاد ہوا کہ حیف ہے اس پیر پر جو مرید کرنے کی استطاعت نہیں رکھتااور مرید کئے جاتا ہے اور افسوس ہے اس مرید پرجسے پیر سے کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ اس سے چمٹا ہو اہے۔یہ کہنے کے بعد آپ کی طبیعت میں ایک جوش پیدا ہوا اور فرمایا ’’اگر مرید کو پیر سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تواسے چاہیے کہ پیر سے کنارہ کش ہوجائے اور کسی مردِ کامل کی تلاش کرے۔،،

٭…ایک روز اِرشاد ہوا کہ’’ پیرِ ناقص سے بیعت بالکل اسطرح ہے جیسے ہیجڑے کی ہیجڑے سے شادی ہوجائے ایسی صورت میں اولاد کی توقع رکھنا کتنی بڑی خوش فہمی ہے۔،،

٭…ایک روز اِرشاد ہوا۔’’ اگرکپڑا میلا ہو تودھوبی اس کو صرف صاف کردیتا ہے اپنی طرف سے سفیدی نہیں دیتا سفیدی تو کپڑے میں موجود ہے وہ میلا ہو گیا ہے دھوبی صرف اس کو دھو دیتا ہے۔اس کا میل دور کر دیتا ہے۔اسی طرح ہر قلبِ انساں میں سفیدی موجود ہوتی ہے۔دنیاوی آلائشوں سے وہ زنگ آلود ہ ہوجاتا ہے۔مرشدِکامل اس کو صاف کر دیتا ہے ورنہ نہ لینا ہے نہ دینا ہے۔

٭…ایک روز ارشاد ہوا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پہلا مقام فنا فی الشیخ ہے۔ دوسرا مقام فنا فی الرّسول ہے اور تیسرا مقام فنا فی اﷲ ہے۔ یہ سب چکر ّ بازی ہے کیونکہ پھر لوٹنا مقام فی الشیخ میں پڑتا ہے ۔اس لئے طوالت اور چکر بازی سے بچا کیو ں نہ جائے کیونکہ جو فنا فی الشیخ ہوا اُسے گوہرِ مقصود ہاتھ آگیا ۔

٭…ایک روزارشاد ہوا کہ بھگت کبیر بہت بڑے عارف تھے۔ جولاہوں کا کام کرتے تھے۔ایک روز سوت صاف کرنے کا پنجہ سر پر رکھ کر بیوی سے کہنے لگے کہ نہ جانے پنجہ کہاں ہے ؟حالانکہ بیوی دیکھ رہی تھی کہ وہ اُن کے سر پر ہے لیکن سمجھ گئی کہ اس بات میں کوئی راز ضرور ہے کہنے لگی کہ معلوم نہیں کہ کہاں ہے ۔بھگت کبیر کہنے لگے اِدھر اُدھر دیکھ کہیں پڑا ہو گا ۔وہ اِدھر اُدھر جا کر تلاش کرنے لگی اور پھر خاموش کھڑی ہو گئی ۔بھگت کبیر نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ یہ تو یہاں تھا۔تو بھی بیوقوف ہے۔ یہ نہیں کہا کہ تیرے سر پر ہے۔ اُن کی بیوی ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی مجھ سے خطا ہو گئی ہے ۔فرمایا اِمام العارفین نے کہ مرید کو شیخ کے سامنے اسی طرح ہونا چاہیۓ۔