In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful

٭…ایک روز اِرشاد ہوا کہ’’ حساب کتاب تو صرف اس کے لئے ہے جو اپنی قبر میں پڑا ہوا ہے۔جو دوسرے کی قبر میں ہو کر پڑا رہے اس کا کیسا حساب کتاب۔اب منکر نکیر اسے ڈھونڈا کریں۔نہ ملے گا نہ حساب کتاب ہو گانہ پرسش ہو گی نہ سزا جزا ہوگی۔،،

٭…ایک روز اِرشاد ہوا کہ ’’ حضرت کمال الدین کینتھلیؒ نے اپنے ایک محبوب مرید سے فرمایاکہ تو یہاں سے فوراً بھاگ جا نہیں تو میں تجھے ذبح کر ڈالوں گا کیونکہ میں نے عالمِ رویا میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔مرید نے عرض کی حضور آپ کا دروازہ چھوڑ کر میں کہاں جائوں؟اگر آپ کو یہی حکم ہوا ہے تو مجھے ذبح کر ڈالیں یہ جان حاضر ہے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ تو نے میری بہت خدمت کی ہے۔میں نہیں چاہتا کہ اپنے ہاتھ سے تجھے ذبح کروں لہذاتو بھاگ جا۔مرید بھی راسخ العقیدہ تھاعرض کیاحضور ایسی موت اگر ملے تو پھر مجھے اور کیا چاہئے۔بسمِ اﷲ کیجئے اور دیر نہ کیجئے۔آپ نے فرمایا تو اچھا پھر لیٹ جا،مرید لیٹ گیا۔ آپ نے چھری لے کر اسے ذبح کر ڈالا۔یہ بات پولیس تک پہنچی تو اُنھوں نے آپ کے خلاف قتل عمد کا پرچہ چاک کرنے کی کوشش کی لیکن مقتول کے ورثا پہنچ گئے۔اُنھوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ حضور کو مقتول کتنا پیارا تھا۔ ایسے مرید کو بغیر حکمت کے اُنھوں نے ذبح نہیں کیا۔ہم نے خون معاف کیاآپ کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہ کی گئی۔کبھی مرشدِکامل اس طرح بھی واصلِ حق کرتا ہے۔،،

٭…ایک روز ارشاد ہواکہ’’ جب کربلا میں حضرت امام حسین علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اُن کے رفقائے کرام کو شہید کر دیا گیاتو پسماندگان کوقید کر کے دربارِ یزید میں لایا گیا۔اس وقت یزید اپنی ظاہری کامیابی پر نازاں بھی تھا اورآئندہ پیش آنے والے حادثات سے پریشان بھی تھا۔وہ چاہتا تھا کہ کوئی ایسی ترکیب نکالی جائے کہ مجھ پر الزام بھی نہ آئے اور پسماندگان کو ٹھکانے بھی لگا دیا جائے۔اس نے حضرت بی بی زینبؑ اور حضرت امام زین العابدین ؑ سے پوچھا کہ اگر اُن کی کوئی خواہش ہے تو وہ بیان کریں۔جواب میں فرمایا گیا کہ ’’پہلے انہیں کربلا معلی جانے دیا جائے تاکہ وہ شہدأ کی لاشوں کو دفن کر سکیں اور پھر ان کو مدینہ منورہ پہنچا دیا جائے۔،،یزید نے یہ بات مان لی لیکن اپنے حفاظتی دستوں سے کہا کہ’’ وہ قافلے کو ایسے راستے سے لے جائیں کہ رات اس مقام پر آئے جہاں ایک خوف ناک غار ہے اور اس میں سانپوں اور بچھوؤں نے بسیرا کیا ہوا ہے ،،چنانچہ ایسا کیا گیا اور یہ قافلہ رات کو اس وقت وہاں پہنچایا گیا جہاں ایک غار تھا اور اس میں سانپوں اور بچھوئوں نے بسیرا کیا ہوا تھا۔اُونٹ بٹھا دئے گئے اور حفاظتی دستوں نے حضرت امام زین العابدینؑ سے کہا کہ’’ آپ کے ساتھ کیونکہ پردہ نشین ہیں اس لئے آپ کھلے میدان میں نہ سوئیں بلکہ قریب ہی ایک غار ہے آپ اس میں رات گزارلیں۔ ،،صبح قافلہ پھر آگے روانہ ہوگا۔چنانچہ امامِ زماںؑ انپے ہمراہیوں سمیت اس غار میں تشریف لے گئے۔دشمن یہ سمجھے کہ رات کا وقت ہے اور غار میں اندھیرا ہے۔سانپ اور بچھو ابھی ان پر حملہ کر دیں گے اور یہ قافلہ ابھی ختم ہو جائے گا۔لیکن ہوا یہ کہ حضرت امام زین العابدینؑ اور اُن کے ہمراہیوں نے دیکھا کہ سانپ اور بچھو غار میں ایک طرف سمٹ رہے ہیں۔آپؑ نے فرمایا ’’میں تمہیں تکلیف دینے کیلئے نہیں آیا ۔آپ آرام سے غار میں پڑے رہیں ہم باہر سو جائیں گے۔،،لیکن حشرات الارض نے جواب دیاکہ’’ ہمیں بشارت دی گئی تھی کہ اِمامِ زماںؑ حادثہ ٔ کربلاکے بعداس غار میں تشریف لائیں گے۔اور رات یہیں گزاریں گے۔
چنانچہ ہم اس میں بسیرا کرنے لگے تاکہ اِ مامِ زماںؑ کی زیارت کر سکیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس غار میں جہاں امامِ زماں ؑ اوراُن کے پاک ہمراہیوں نے رات گزارنی ہے ہماری حمیّت نے اسے گوارانہ کیا کہ کسی اور کے ناپاک قدم پڑیں ہم اسی مقصد کے تحت ایک عرصہ سے اس غار میں پڑے ہوئے ہیں اب آپ تشریف لائے ہیں تو ہم باہر نکل جاتے ہیں۔آپ آرام فرمائیں،،چنانچہ تمام سانپ اور بچھو باہر نکل گئے اور آپؑ نے وہ رات بخیروعافیت اس غار میں گزار لی۔

٭…ایک روز اِرشاد ہوا کہ’’ حضرت موسٰیؑ نے درگاہِ ایزدی میں عرض کی کہ ’’میں تیرے کسی خاص بندے سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔،،اِرشاد ہوا کہ’’ فلاں پہاڑ کے دامن میں جا وہاں ملاقات ہو گی۔،،چنانچہ حضرت موسٰی ؑ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص پسینے سے شرا بور ہو رہا ہے اور عالمِ مستی میں ٹہل رہا ہے۔آپ نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے اعتراض کیا۔ اس پر حضرت موسٰیؑ نے کہا کہ میں رَبّ جلیل کی اجازت سے تیرے پاس آیا ہوں۔میں وقت کا پیغمبر موسٰی کلیم اﷲ ہوں۔اور پھر اس سے پوچھا کہ اس کی کوئی خواہش ہو تو وہ بتلائے۔اس شخص نے کہا کہ مجھے ٹھنڈا پانی پلا دو۔ موسٰیؑ پانی لینے چلے گئے پانی لے کر آئے تو کیا دیکھا کہ اس مقام پر ایک شیر کھڑا ہے جو اس شخص کو چیر پھاڑ کر کھا گیا ہے۔ اس کے جبڑے خون آلودہ ہیں اور اپنی زبان چاٹ رہا ہے۔موسٰیؑ نے شیر سے مخاطب ہو کر کہا ’’اگر تو نے اس شخص کو چیر پھاڑ کر کھانا تھاتو تھوڑی دیر انتظار تو کرتاتاکہ وہ تشنہ لب دو گھونٹ پانی پی لیتا۔،،شیر نے جواب دیا کہ ’’میں نے منشا ئے ایزدی کے بغیر ایسا نہیں کیا حالانکہ مجھے اس کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔لیکن آج مجھے حکم ہوا کہ میں اس کو چیر پھاڑ کر کھا جائوں۔کیوں کہ ربّ ِ جلیل کو غیرت آئی کہ دم تو ہماری محبت کا بھرتا تھا لیکن پانی موسٰیؑ سے مانگا۔ اگر ہم سے مانگا ہوتا تو ہم ابھی اس کے لئے ٹھنڈے پانی کے چشمے جاری کر دیتے ۔،،